صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۹ - جہنمیین کا جنت میں داخلہ
جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہونے والوں کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۵۹
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا مَسَّهُمْ مِنْهَا سَفْعٌ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اس کے بعد کہ جہنم کی آگ نے ان کو جلا ڈالا ہو گا اور پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ اہل جنت ان کو «جهنميين» کے نام سے یاد کریں گے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۵۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جہنم سے نکلنا اور جنت میں داخلہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جماعت جہنم سے نکلے گی، اس کے بعد کہ جہنم کی آگ نے انہیں جلا ڈالا ہوگا، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ اہل جنت انہیں جہنمیین کے نام سے یاد کریں گے۔ اس روایت میں ایک خاص گروہ کا ذکر ہے جو آگ سے متاثر ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوگا۔ حدیث میں ان کے اعمال، تعداد یا پوری تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے اس پر اضافی دعوے نہیں کرنے چاہییں۔ یہ حدیث آخرت کے انجام کی سختی بھی دکھاتی ہے اور اللہ کے حکم سے جہنم سے نکلنے کا ذکر بھی کرتی ہے۔ انسان کو اس سے جہنم سے پناہ مانگنے اور ایمان و عمل کی فکر کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ایک جماعت کے جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا ذکر ہے۔
- جہنم کی آگ کا اثر بہت سخت ہوگا، جیسا کہ متن میں جلا ڈالنے کا ذکر ہے۔
- اہل جنت انہیں جہنمیین کے نام سے یاد کریں گے۔
