صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۲ - دو انگاروں کا عذاب
دو انگاروں والی حدیث: جہنم کے ہلکے عذاب کی سختی
صحیح بخاری : ۶۵۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۶۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ وَالْقُمْقُمُ " .
نعمان بن بشیر روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہو گا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دئیے جائیں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا جس طرح ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع دوزخ کا عذاب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں میں عذاب کے اعتبار سے سب سے ہلکا عذاب پانے والا وہ شخص ہوگا جس کے دونوں پیروں کے نیچے دو انگارے رکھ دیے جائیں گے، جن سے اس کا دماغ اس طرح کھولے گا جیسے ہانڈی اور کیتلی جوش کھاتی ہے۔ یہ روایت پچھلے مضمون کو مزید واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ یہاں ہلکا عذاب بھی ایسا بتایا گیا ہے جو دنیا کی عام تکلیفوں سے بہت بڑھ کر ہے۔ حدیث کا مقصد انسان کو جہنم سے بے خوف کرنا نہیں، بلکہ جہنم کی حقیقت یاد دلانا ہے۔ اس سے بندہ اللہ کی پناہ، توبہ، اور نیک عمل کی طرف مائل ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب بھی بہت سخت بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں دو انگاروں اور دماغ کے کھولنے کی تشبیہ آئی ہے۔
- جہنم کے ذکر سے توبہ اور اصلاح کی فکر پیدا ہونی چاہیے۔
