صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۳ - آدھی کھجور اور اچھی بات

آدھی کھجور کی حدیث: صدقہ اور اچھی بات سے دوزخ سے بچو

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۶۳

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَكَرَ النَّارَ ، فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ، ثُمَّ ذَكَرَ النَّارَ ، فَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا ، ثُمَّ قَالَ : اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .

عدی بن حاتم روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔ پھر جہنم کا ذکر کیا اور روئے مبارک پھیر لیا اور اس سے پناہ مانگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ دوزخ سے بچو صدقہ دے کر خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے، جسے یہ بھی نہ ملے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہہ کر۔

صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صدقہ اور اچھی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اپنا چہرہ پھیر لیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ پھر دوبارہ جہنم کا ذکر کیا اور پناہ مانگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ دوزخ سے بچو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو۔ جسے یہ بھی نہ ملے، وہ اچھی بات کہے۔ یہ حدیث بہت عملی پیغام دیتی ہے۔ نیکی ہمیشہ بڑی رقم یا بڑی چیز سے ہی نہیں ہوتی۔ کبھی چھوٹا سا صدقہ، اور اگر وہ بھی نہ ہو تو نرم، اچھی اور بھلی بات بھی خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ متن میں دوزخ سے بچنے کی ترغیب ہے، مگر ساتھ ہی آسان نیکی کا دروازہ بھی دکھایا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھوٹا صدقہ بھی نیکی کے کام میں شامل ہے۔
  • اگر صدقہ دینے کو کچھ نہ ہو تو اچھی بات کہنا بھی خیر ہے۔
  • جہنم سے پناہ مانگنا اور اس سے بچنے کی فکر رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں