صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۱ - جہنم کا سب سے ہلکا عذاب
جہنم کے سب سے ہلکے عذاب کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۵۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۶۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، لَرَجُلٌ تُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَةٌ يَغْلِي مِنْهَا دِمَاغُهُ " .
ابواسحاق سبیعی روایت:
میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم وہ شخص ہو گا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگے کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جہنم کا عذاب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن عذاب کے اعتبار سے سب سے کم عذاب پانے والا وہ شخص ہوگا جس کے دونوں قدموں کے نیچے آگ کا انگارہ رکھا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ یہ حدیث بہت سخت تنبیہ ہے، کیونکہ جسے سب سے ہلکا عذاب کہا گیا، وہ بھی انسانی برداشت سے باہر ہے۔ متن میں صرف اس عذاب کی صورت بیان ہوئی ہے؛ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ شخص کون ہے، سوائے اس روایت کے الفاظ کے۔ اس حدیث سے انسان کو جہنم کے معمولی تصور سے بچنا چاہیے۔ آخرت کا عذاب کھیل یا مبالغہ نہیں، بلکہ ایمان کو جگانے والی حقیقت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جہنم کا ہلکا ترین عذاب بھی انتہائی سخت ہوگا۔
- حدیث انسان کو عذاب آخرت سے ڈرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
- غیبی عذاب کی تفصیل میں روایت کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
