صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۷ - دلوں کو پھیرنے والے کی قسم
مقلب القلوب: دلوں کو پھیرنے والے رب کی قسم
صحیح بخاری : ۶۶۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كَثِيرًا مِمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ : لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ " .
عبداللہ روایت:
اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہیں! دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یوں قسم کھاتے تھے: نہیں، دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔ اس مختصر روایت میں ایمان اور دل کے حال کا بڑا سبق موجود ہے۔ دل انسان کے اندر بدلتا رہتا ہے، اور اس کا حقیقی اختیار اللہ کے پاس ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی اس صفت کے ساتھ قسم کھائی کہ وہ دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ اس حدیث کا موضوع مقلب القلوب، دل کی حفاظت، اور ایمان پر ثابت قدمی ہے۔ یہاں ہمیں کوئی لمبی دعا نہیں دی گئی، بلکہ ایک جملہ بتایا گیا ہے جو اللہ کی قدرت یاد دلاتا ہے۔ بندے کو اپنے دل کے بارے میں بے فکر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ سے درست رخ اور ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دلوں کا اصل اختیار اللہ کے پاس ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دلوں کو پھیرنے والے رب کی قسم کھاتے تھے۔
- انسان کو اپنے دل کے حال پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔
- ایمان پر ثابت قدمی کے لیے اللہ کی طرف رجوع ضروری ہے۔
