صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۶ - آزمائش اور برے انجام سے پناہ
مصیبت اور برے انجام سے پناہ مانگنے کی دعا
صحیح بخاری : ۶۶۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا۔ آزمائش کی سختی، بدبختی کی پستی، برے خاتمے یا برے فیصلے، اور دشمنوں کے خوش ہونے سے۔ یہ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں ہر حال انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں بندہ کمزور پڑ سکتا ہے، اس لیے اللہ سے پناہ مانگنا مومن کا طریقہ ہے۔ اس حدیث کا موضوع مصیبت سے پناہ، بری تقدیر کے اثر سے بچنے کی دعا، اور اللہ سے حفاظت طلب کرنا ہے۔ اس میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ صاف عملی سبق ہے: مشکل حالات آنے سے پہلے بھی اللہ کو پکارو، اور اپنے دین، عزت، دل اور انجام کی حفاظت اسی سے مانگو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آزمائش کی سختی سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- بدبختی اور برے انجام سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔
- دشمن کی خوشی کا سبب بننے والی حالت سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔
- حفاظت کا اصل سہارا اللہ ہے۔
