صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۵ - فرض نماز کے بعد کی دعا
فرض نماز کے بعد کی دعا: دینے اور روکنے والا اللہ ہے
صحیح بخاری : ۶۶۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ : اكْتُبْ إِلَيَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ ، فَأَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ ، أَنَّ وَرَّادًا ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا ، ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَسَمِعْتُهُ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ .
وراد روایت:
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے۔ چنانچہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو لکھوایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی۔اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وردا نے خبر دی، پھر اس کے بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں فرض نماز کے بعد کی ایک دعا بیان ہوئی ہے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے وہ کلمات لکھوائے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بعد سنے تھے۔ دعا کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر یہ بات کہ اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جو تو روک دے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ تیرے سامنے دولت والے کی دولت کام نہیں دے سکتی۔ اس حدیث کا موضوع نماز کے بعد کی دعا، توحید، رزق، اور اللہ کے فیصلے پر ایمان ہے۔ یہ دعا انسان کے دل میں یہ بات بٹھاتی ہے کہ اصل اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے، مال، طاقت یا مرتبہ اللہ کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
- دینے اور روکنے کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔
- اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
- مال و مرتبہ اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں فائدہ نہیں دے سکتے۔
