صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۴ - آدم و موسیٰ کا مکالمہ اور تقدیر

آدم اور موسیٰ علیہما السلام کا مکالمہ: تقدیر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۱۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " احْتَجَّ آدَمُ ، وَمُوسَى ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ لَهُ آدَمُ : يَا مُوسَى ، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ثَلَاثًا " ، قَالَ سُفْيَانُ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”آدم اور موسیٰ نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔سفیان نے اسی اسناد سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان مکالمہ بیان ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی کے سبب ہمیں جنت سے نکلنا پڑا۔ آدم علیہ السلام نے جواب میں موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا ذکر کیا کہ اللہ نے انہیں کلام کے لیے منتخب کیا اور تورات لکھی۔ پھر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا آپ مجھے اس کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر حجت میں غالب آئے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع تقدیر، اللہ کا علم، اور آدم و موسیٰ کا مکالمہ ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ حدیث میں بیان کردہ معاملہ تقدیر کے لکھے جانے سے متعلق ہے، نہ کہ انسان کے لیے گناہ کو معمولی سمجھنے کی اجازت۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کا فیصلہ اور علم مخلوق سے پہلے ہے۔
  • آدم علیہ السلام نے تقدیر کے لکھے جانے کا ذکر کیا۔
  • حدیث میں موسیٰ علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کا علمی مکالمہ بیان ہوا ہے۔
  • تقدیر کا مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ حد میں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں