صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۱ - قسم کا کفارہ اور بہتر کام

قسم کا کفارہ: بہتر کام نظر آئے تو کیا کیا جائے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَكُنْ يَحْنَثُ فِي يَمِينٍ قَطُّ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ كَفَّارَةَ الْيَمِينِ وَقَالَ لاَ أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلاَّ أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي.

عائشہ روایت:

ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ اتارا۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۱ کا خلاصہ

اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ نازل فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر میں کسی بات پر قسم کھاؤں اور اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں بھلائی دیکھوں، تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ اس حدیث کا موضوع قسم کا کفارہ، بہتر کام، اور دینی سمجھ ہے۔ یہاں یہ بات نہیں کہ قسم کو ہلکا لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اگر قسم پر اڑے رہنے سے بھلائی چھوٹ رہی ہو تو شریعت نے کفارہ کا راستہ رکھا ہے۔ اس سے بندے کو ضد کے بجائے خیر کو اختیار کرنے کا سبق ملتا ہے، ساتھ ہی قسم کی ذمہ داری بھی باقی رہتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قسم کو بے وقعت نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • اگر قسم کے خلاف کام میں بھلائی ہو تو بہتر کام کیا جا سکتا ہے۔
  • ایسی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔
  • دینی سمجھ ضد کے بجائے خیر کو اختیار کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں