صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۲ - عہدہ مانگنے سے بچو
امارت مانگنے کی ممانعت اور قسم کا کفارہ
صحیح بخاری : ۶۶۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۲۲
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُوتِيتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
عبدالرحمٰن بن سمرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو دو اہم باتیں سکھائیں۔ پہلی یہ کہ حکومت یا امارت کا عہدہ خود نہ مانگو۔ اگر مانگنے کے بعد ملے گا تو آدمی اس ذمہ داری کے حوالے کر دیا جائے گا، اور اگر بغیر مانگے ملے تو اس میں اللہ کی طرف سے مدد ہو گی۔ دوسری بات قسم کے بارے میں ہے: اگر کسی بات پر قسم کھاؤ، پھر اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں بھلائی دیکھو، تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔ اس حدیث کا موضوع امارت کی حدیث، ذمہ داری، قسم کا کفارہ، اور بہتر کام ہے۔ یہ روایت عہدہ طلبی کے خطرے اور خیر کو اختیار کرنے کی دینی رہنمائی دونوں کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکومت یا عہدہ خود مانگنے سے منع کیا گیا ہے۔
- بغیر مانگے ملنے والی ذمہ داری میں اللہ کی مدد کا ذکر آیا ہے۔
- قسم کے خلاف بہتر کام ہو تو کفارہ دے کر بہتر کام کیا جائے۔
- ذمہ داری اور قسم دونوں میں اللہ کی رہنمائی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
