صحیح بخاری حدیث ۶۶۳ - فرض نماز سے پہلے نفل
اقامت کے بعد نفل نماز کا مسئلہ
صحیح بخاری : ۶۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ ، قَالَ : ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ ، قَالَ : " سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ ابْنُ بُحَيْنَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاثَ بِهِ النَّاسُ ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصُّبْحَ أَرْبَعًا ، الصُّبْحَ أَرْبَعًا " ، تَابَعَهُ غُنْدَرٌ وَمُعَاذٌ ، عَنْ شُعْبَةَ فِي مَالِكٍ ، وَقَالَ : ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، وَقَالَ حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سَعْدٌ ، عَنْ حَفْصٍ ، عَنْ مَالِكٍ .
عبداللہ بن مالک بن بحینہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعد بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ میں نے حفص بن عاصم سے سنا، کہا کہ میں نے قبیلہ ازد کے ایک صاحب سے جن کا نام مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ تھا، سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے نمازی پر پڑی جو تکبیر کے بعد دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگ اس شخص کے اردگرد جمع ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ کیا صبح کی چار رکعتیں ہو گئیں؟اس حدیث کی متابعت غندر اور معاذ نے شعبہ سے کی ہے جو مالک سے روایت کرتے ہیں۔ ابن اسحاق نے سعد سے، انہوں نے حفص سے، وہ عبداللہ بن بحینہ سے اور حماد نے کہا کہ ہمیں سعد نے حفص کے واسطہ سے خبر دی اور وہ مالک کے واسطہ سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۳ کا خلاصہ
نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک شخص کو اقامت کے بعد دو رکعت پڑھتے دیکھا تو فرمایا: کیا فجر کی چار رکعتیں ہو گئیں؟ اس میں فرض نماز کو مقدم رکھنے کی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقامت کے بعد فرض نماز اہم ہے
- جماعت سے پیچھے نہ رہیں
- عبادت میں سنت کی پیروی کریں
