صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۲ - نبی صلى الله عليه وسلم سے اپنی جان سے بڑھ کر محبت
نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت: اپنی جان سے بھی بڑھ کر
صحیح بخاری : ۶۶۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ هِشَامٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ " ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْآنَ يَا عُمَرُ " .
عبداللہ بن ہشام روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ (ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، عمر! اب تیرا ایمان پورا ہوا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع محبت رسول ہے۔ عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، مگر میری اپنی جان سے نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا کہ اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ آپ نے فرمایا: اب، اے عمر۔ نبی صلى الله عليه وسلم سے محبت والی حدیث صاف بتاتی ہے کہ ایمان کا تعلق صرف زبان سے نہیں، دل کی ترجیح سے بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محبت رسول صلى الله عليه وسلم ایمان کا بہت اہم حصہ ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت اپنی ذات کی محبت سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم حق بات سن کر فوراً اپنی اصلاح کرتے تھے۔
