صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۱ - زیادہ رونا اور کم ہنسنا

زیادہ روتے اور کم ہنستے: آخرت کی فکر والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳۱

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے مت محمد! واللہ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع آخرت کی فکر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امت محمد! اللہ کی قسم، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ یہ حدیث انسان کو ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ سنجیدہ بنانے کے لیے ہے۔ ہماری زندگی میں ہنسی، خوشی اور معمول کے کام ہوتے ہیں، مگر آخرت کی حقیقت کو بھول جانا درست نہیں۔ زیادہ روتے کم ہنستے حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان کو آخرت کے معاملات کا وہ علم ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا، تو اس کے اندر غفلت کم ہو جائے۔ اس حدیث سے دل میں جواب دہی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخرت کی فکر انسان کو غفلت سے بچاتی ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو سنجیدگی اور جواب دہی کا احساس دلایا۔
  • دنیا کی خوشی میں آخرت کو بھولنا مناسب نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں