صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۷ - آخرت کی مشکلات کا احساس

آخرت کی مشکلات: زیادہ رونا اور کم ہنسنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۳۷

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ هُوَ ابْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم بھی آخرت کی وہ مشکلات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۶۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع آخرت کی فکر اور دل کی نرمی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔ اس حدیث میں آخرت کی مشکلات کا احساس دلایا گیا ہے۔ انسان دنیا کے کاموں میں لگ کر بہت کچھ بھول جاتا ہے، مگر یہ حدیث دل کو جگاتی ہے کہ اصل حساب آگے ہے۔ زیادہ روتے کم ہنستے حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ جائز خوشی چھوڑ دی جائے، بلکہ یہ کہ دل میں اللہ کے سامنے پیشی کا احساس زندہ رہے۔ یہی احساس انسان کو سنبھالتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخرت کا علم انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔
  • غفلت کم کرنے کے لیے جواب دہی کا احساس ضروری ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو آخرت کی فکر دلائی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں