صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۷ - اہل جنت کی عاجزی
اہل جنت کی عاجزی اور اہل نار کا تکبر: اہم حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ ، مُتَضَعَّفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، وَأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ ، عُتُلٍّ ، مُسْتَكْبِرٍ " .
حارثہ بن وہب روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے (اس کی قسم پوری کر دے) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جنت اور اہل نار کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں۔ اہل جنت کے بارے میں فرمایا کہ ہر کمزور اور لوگوں کی نظر میں دبایا ہوا شخص، اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اسے سچا کر دے۔ اس میں کمزوری سے مراد معاشرتی حیثیت کی کمی یا لوگوں کی نظر میں کم سمجھا جانا ہو سکتا ہے، مگر اس کے دل میں اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف اہل نار کے بارے میں موٹا، لڑاکا، مغرور اور فسادی مزاج بیان ہوا۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اصل قیمت ظاہری طاقت، دولت یا رعب کی نہیں، بلکہ عاجزی، اللہ پر اعتماد اور تکبر سے بچنے کی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے نزدیک عاجز اور کمزور بندے کا مقام بڑا ہو سکتا ہے۔
- تکبر، سخت مزاجی اور فساد سے بچنا چاہیے۔
- لوگوں کی نظر میں کم سمجھا جانا اللہ کے ہاں کمی کی دلیل نہیں۔
- اللہ پر بھروسہ مومن کی بڑی خوبی ہے۔
