صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۶ - اولاد کے غم پر اجر کی حدیث
اولاد کے فوت ہونے پر صبر اور اللہ کی رحمت کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۵۶
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، تَمَسُّهُ النَّارُ ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۶۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایسے مسلمان کے لیے بڑی تسلی ہے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں، اسے دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔ حدیث کے الفاظ غم زدہ والدین کے لیے رحمت اور امید کا پیغام ہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ اولاد کا جانا بہت بڑا صدمہ ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس صبر پر بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ حدیث میں تین بچوں کا ذکر ہے، اس لیے بیان کو اسی حد تک رکھنا چاہیے اور اسے اپنی طرف سے ہر صورت پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔ مسلمان کو ایسے موقع پر صبر، دعا اور اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اولاد کا فوت ہونا سخت صدمہ ہے، مگر صبر پر اجر کی امید ہے۔
- حدیث میں تین بچوں کے فوت ہونے پر خاص بشارت آئی ہے۔
- مصیبت میں اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کو اپنی طرف سے بڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
