صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۸ - چور کا ہاتھ اور تین درہم
چور کا ہاتھ اور تین درہم: ڈھال کی چوری والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۷۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۹۸
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( «ثمنه» کے بجائے) لفظ «قيمته» کہا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع چور کا ہاتھ، ڈھال کی چوری اور تین درہم قیمت ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ اس روایت میں ثمنه اور قيمته کے الفاظ کا ذکر بھی آیا ہے، یعنی بات قیمت ہی سے متعلق ہے۔ یہ چوری کی سزا حدیث اور تین درہم والی ڈھال کے موضوع پر اہم روایت ہے۔ اس متن سے بس یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک خاص قیمت والی ڈھال کی چوری پر حد قائم ہوئی۔ اس میں عمومی جذباتی تبصرے یا اضافی شرائط شامل کرنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں چور، ڈھال اور تین درہم کی قیمت کا ذکر ہے۔
- مال کی قیمت کو روایت میں خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- حد کا واقعہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کے طور پر نقل ہوا ہے۔
- متن سے باہر غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
