صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۱ - خادم پر ظلم اور آزادی کا سبق

غلام کے حقوق کی حدیث: طمانچہ، معافی اور آزادی کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا ، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ، ثُمَّ قَالَ : امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ، ثُمَّ قَالَ : كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَعْتِقُوهَا ، قَالُوا : لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا ، قَالَ : " ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا " .

معاویہ بن سوید روایت:

میں نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا پھر میں بھاگ گیا، پھر میں آیا ظہر سے تھوڑے پہلے اور اپنے باپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے غلام کو بلایا اور مجھ کو بھی بلایا، پھر کہا غلام سے بدلہ لے اس سے، اس نے معاف کر دیا۔ سوید نے کہا: ہم مقرن کے بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مبارک میں تھے ہمارے پاس صرف ایک لونڈی تھی اس کو ہم میں سے کسی نے طمانچہ مارا۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو۔“ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اور کوئی شخص خدمت کے لئے نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اچھا اس سے خدمت لیں جب ان کو اس کی ضرورت نہ رہے تو اس کو آزاد کر دیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث غلام کے حقوق اور خادم کے ساتھ حسن سلوک کو بہت صاف انداز میں سمجھاتی ہے۔ معاویہ بن سوید نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا، پھر ان کے والد نے غلام کو بدلہ لینے کا حق دیا، مگر غلام نے معاف کر دیا۔ اس کے بعد سوید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے کا واقعہ سنایا کہ بنو مقرن کے پاس صرف ایک لونڈی تھی، کسی نے اسے طمانچہ مارا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے آزاد کر دو۔ جب لوگوں نے بتایا کہ ان کے پاس خدمت کے لیے اور کوئی نہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ضرورت تک اس سے خدمت لے لو، پھر جب ضرورت نہ رہے تو آزاد کر دو۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اسلام میں کمزور پر ہاتھ اٹھانا معمولی بات نہیں، بلکہ خادم کی عزت اور اس کے حق کا خیال لازم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خادم یا غلام کو مارنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
  • مظلوم کو بدلہ لینے کا حق دیا جا سکتا ہے، مگر معافی بھی ایک اچھا راستہ ہے۔
  • طمانچہ مارنے جیسے ظلم پر آزادی کا حکم اس عمل کی سنگینی بتاتا ہے۔
  • ضرورت ختم ہو جائے تو خادم کو آزاد کرنا بہتر عمل بتایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں