صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۰ - غلام پر زیادتی کے حکم کی تائید
غلام کو طمانچہ مارنے کا کفارہ: دوسری سند سے روایت
صحیح مسلم : ۴۳۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰۰
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ ، فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ ابن مہدی کی روایت میں ایسے حد لگانے کا ذکر ہے جو غلام نے نہیں کی، اور وکیع کی روایت میں صرف یہ الفاظ ہیں کہ جس نے اپنے عبد کو طمانچہ مارا، جبکہ حد کا ذکر نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کے الفاظ میں کچھ فرق ہے، مگر اصل مضمون یہی ہے کہ غلام یا مملوک کو ناحق مارنا معمولی بات نہیں۔ اس کا کفارہ اسے آزاد کرنا بتایا گیا۔ یہ حدیث غلام کے ساتھ سلوک، ظلم سے بچنے اور غلطی کے ازالے پر زور دیتی ہے۔ عام زندگی میں بھی اس سے سبق ملتا ہے کہ کمزور یا اپنے اختیار میں آنے والے شخص کے ساتھ سختی کرتے وقت اللہ کا خوف سامنے رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ میں فرق ہو سکتا ہے مگر اصل حکم واضح ہے۔
- غلام کو طمانچہ مارنے کو معمولی نہیں چھوڑا گیا۔
- ناحق مار کا کفارہ آزادی بیان ہوا ہے۔
- اختیار رکھنے والے کو کمزور کے حق سے ڈرنا چاہیے۔
