حدیث ۴۲۹۹

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۹

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَاذَانَ : " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ ، فَرَأَى بِظَهْرِهِ أَثَرًا ، فَقَالَ لَهُ : أَوْجَعْتُكَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأَنْتَ عَتِيقٌ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ كَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " ،

‏‏‏‏ زاذان سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھا تو کہا: میں نے تجھے تکلیف دی۔ اس نے کہا: نہیں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آزاد ہے پھر زمین پر سے کوئی چیز اٹھائی اور کہا: اس کے آزاد کرنے میں اتنا بھی ثواب نہیں ملا میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص غلام کو بن کیے حد لگائے (یعنی ناحق مارے) یا طمانچہ لگائے تو اس کا کفارہ یعنی اتار یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں