صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۹ - چوری کی برائی
چوری کی برائی: انڈا اور رسی چرانے والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۷۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۹۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ ، يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ " .
ابوصالح روایت:
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے, ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع چوری کی برائی اور اس کے انجام سے ڈرانا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے، وہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اس حدیث میں چوری کی لعنت، چوری کی سزا اور چھوٹی چوری کے خطرے کا ذکر ہے۔ متن کا انداز سخت تنبیہ والا ہے، تاکہ آدمی چوری کو معمولی نہ سمجھے۔ حدیث میں انڈے اور رسی کی مثال آئی ہے، اس لیے بات اسی مثال کے دائرے میں رہنی چاہیے۔ اس سے چوری کی عادت کے انجام کی سنگینی محسوس ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چوری کو معمولی سمجھنا خطرناک رویہ ہے۔
- حدیث میں چور پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
- انڈا اور رسی کی مثال چوری کی برائی سمجھانے کے لیے آئی ہے۔
- آدمی کو چھوٹی چیز میں بھی خیانت سے بچنا چاہیے۔
