صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۰ - سزا کے بعد توبہ
سزا کے بعد توبہ: حسن توبہ والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتی تھی, اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع توبہ اور حد کے بعد انسانی معاملہ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ پھر وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی، اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی ضرورتیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے رکھتی تھیں۔ روایت میں صاف کہا گیا کہ اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور اس کی توبہ اچھی ہو گئی تھی۔ یہ سزا کے بعد توبہ کی حدیث، حسن توبہ حدیث اور چوری کے بعد توبہ کے موضوع سے جڑی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حد قائم ہونے کے بعد بھی توبہ اور ضرورت کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ متن میں یہی توازن نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حد قائم ہونے کے بعد بھی توبہ کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- عورت کی ضرورتیں نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کی جاتی تھیں۔
- روایت میں اس کی اچھی توبہ کی گواہی دی گئی ہے۔
- سزا کے بعد انسان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا اس متن سے ثابت نہیں ہوتا۔
