صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۰ - ان شاء اللہ والی روایت کے الفاظ کا فرق
الفاظ کے فرق کے ساتھ ان شاء اللہ کی وہی تعلیم
صحیح مسلم : ۴۲۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۰
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : كُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
اس سند سے الفاظ کے فرق کے ساتھ وہی حدیث مروی ہے جو گزری ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۰ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی واقعے کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے، مگر الفاظ میں کچھ فرق ہے۔ یہاں مضمون یہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے ارادہ کیا تھا کہ ہر عورت ایک لڑکا حمل میں اٹھائے گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ پچھلی روایات کی طرح اس میں بھی اصل سبق ان شاء اللہ کہنا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ انسان جب مستقبل کے بارے میں کوئی بات کرے تو اسے اپنی طاقت پر کامل بھروسہ نہیں کر لینا چاہیے۔ کام کا ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہے۔ یہ بات روزمرہ زندگی کے ہر منصوبے میں کام آتی ہے، جیسے سفر، کام، تعلیم، کاروبار یا گھر کے فیصلے۔ ان شاء اللہ کہنا صرف زبان کا لفظ نہیں، بلکہ دل کو یاد دلاتا ہے کہ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- الفاظ کا فرق ہو سکتا ہے مگر اصل مضمون واضح رہتا ہے۔
- مستقبل کے بارے میں بات کرتے وقت اللہ کی مشیت یاد رکھنی چاہیے۔
- انسان اپنے منصوبے کا مالک نہیں، کوشش کرنے والا ہے۔
- ان شاء اللہ کہنا بندے کو عاجزی سکھاتا ہے۔
