صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۹ - ان شاء اللہ اور نیک مقصد کی تکمیل
ان شاء اللہ کی حدیث: نیک ارادے کو اللہ سے جوڑنا
صحیح مسلم : ۴۲۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۹
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى تِسْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ ، فَجَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَ قَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے کہا: میں اس رات کو نوے (۹۰) عورتوں کے پاس ہو آؤں گا ہر ایک سے ایک لڑکا ہو گا جو سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، ان کا ساتھی (کوئی آدمی یا فرشتہ) بولا کہو ان شاء اللہ انہوں نے کہا (بھول گئے) پھر وہ سب عورتوں کے پاس گئے لیکن کوئی حاملہ نہ ہوئی، ایک ہوئی وہ بھی ایک ٹکڑا آدمی کا جنی۔ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب کی سب عورتیں لڑکے جنتیں اور سب لڑکے جہاد کرتے سوار ہو کر اللہ کی راہ میں سب مل کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کا واقعہ نوے عورتوں کے ذکر کے ساتھ آیا ہے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ہر ایک سے لڑکا ہو گا جو اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا کہ ان شاء اللہ کہیے، مگر وہ نہ کہہ سکے۔ پھر کوئی حاملہ نہ ہوئی، سوائے ایک کے، اور اس کے ہاں بھی مکمل بچہ نہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو سب لڑکے اللہ کی راہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے۔ اس روایت میں نیک مقصد، مضبوط ارادہ اور ان شاء اللہ کا تعلق صاف نظر آتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کو اپنی بات اور منصوبے کو اللہ کی چاہت کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک مقصد کے لیے بھی اللہ کی مشیت ضروری ہے۔
- ان شاء اللہ کہنا مستقبل کے دعوے میں بندگی کا انداز ہے۔
- انسان کو اپنے ارادے پر اکیلا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
- بڑی امید کے ساتھ اللہ کا ذکر بھی ہونا چاہیے۔
