صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۱ - قسم پر ضد کے بجائے کفارہ

قسم پر ضد نہ کریں: کفارہ دے کر درست راستہ اپنائیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ " .

ہمام بن منبہ روایت:

یہ حدیثیں بیان کی ہیں ہم سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، ان میں سے یہ ایک حدیث ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قسم اللہ کی مقرر تم میں سے کسی کا ثابت رہنا اپنی قسم پر جو اپنے گھر والوں کے حق میں کھائی ہو زیادہ گناہ ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قسم کے کفارہ دینے سے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۱ کا خلاصہ

یہ حدیث گھر والوں کے معاملے میں قسم پر اصرار کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے حق میں کھائی ہوئی قسم پر جمے رہنا، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اللہ کا مقرر کیا ہوا کفارہ دے دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قسم گھر والوں کے حق میں سختی یا نقصان کا سبب بن رہی ہو تو آدمی صرف اپنی بات رکھنے کے لیے اس پر نہ اڑا رہے۔ قسم کا کفارہ حدیث میں ایک راستہ بتایا گیا ہے۔ اس حدیث میں گھر کے تعلقات، نرمی اور درست فیصلے کا پہلو ہے۔ آدمی کو اپنی انا یا ضد کے بجائے وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جو اللہ کے حکم کے مطابق ہو اور گھر والوں کے حق میں بہتر ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر والوں کے حق میں نقصان دہ قسم پر ضد نہ کی جائے۔
  • اللہ کے مقرر کردہ کفارہ کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
  • قسم کے معاملے میں گھر والوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔
  • انا کے بجائے درست اور نرم راستہ اختیار کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں