صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۲ - نذر پوری کرنے کا حکم

نذر کی حدیث: مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر پوری کرنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، قَالَ : فَأَوْفِ بِنَذْرِكَ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ کعبہ کی مسجد کے اند ایک رات اعتکاف کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر پورا کر اپنی نذر کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جاہلیت کے زمانے میں نذر مانی تھی کہ وہ کعبہ کی مسجد، یعنی مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ اپنی نذر پوری کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع نذر اور اعتکاف ہے۔ یہاں بہت صاف بات سامنے آتی ہے کہ جب کوئی نذر اللہ کی عبادت سے متعلق ہو اور اس میں خلاف شرع بات نہ ہو تو اسے پورا کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حدیث میں لمبی بحث نہیں، صرف سوال اور مختصر جواب ہے۔ اس لیے اس کی تعلیم بھی سیدھی ہے: عبادت کی نذر کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اسے پورا کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبادت سے متعلق نذر کو پورا کرنا چاہیے۔
  • نذر کے بارے میں اہل علم سے پوچھنا درست طریقہ ہے۔
  • مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • دینی وعدے کو معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں