صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۲ - عکل والوں کا واقعہ

عکل والوں کا واقعہ: قتل، چوری اور غداری کی سزا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۲

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَرٌ مِنْ عُكْلٍ ، فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ ، فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَفَعَلُوا ، فَصَحُّوا ، فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا ، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ ، فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ ، وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ ، ثُمَّ لَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی (ان کے پیٹ پھول گئے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں (کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع عکل والوں کا واقعہ، قتل، چوری اور سخت جرم کی سزا ہے۔ چند لوگ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے، اسلام قبول کیا، مگر مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہ آئی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں کے پاس جانے اور ان کا دودھ اور پیشاب ملا کر پینے کا حکم دیا۔ وہ تندرست ہو گئے، پھر مرتد ہوئے، چرواہوں کو قتل کیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کے پیچھے سوار بھیجے، انہیں پکڑ کر لایا گیا اور سزا دی گئی۔ یہ روایت عام چوری کے بجائے قتل، اونٹ لے جانے، ارتداد اور سنگین غداری کے واقعے سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے سادہ چوری کے حکم کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں صرف چوری نہیں، قتل اور اونٹ لے جانے کا ذکر بھی ہے۔
  • لوگ پہلے تندرست ہوئے، پھر انہوں نے سنگین جرم کیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی تلاش کے لیے سوار بھیجے۔
  • اس واقعے کو عام چوری کے مسئلے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں