صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۷ - خود کو تکلیف والی نذر
پیدل نذر کی حدیث: اللہ خود کو تکلیف دینے سے بے نیاز ہے
صحیح مسلم : ۴۲۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا بَالُ هَذَا ؟ قَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ ، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے بیچ میں تکیہ لگائے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس کا کیا حال ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس نے نذر کی ہے پیدل چلنے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بے پرواہ ہے اسے عذاب دینے سے اور حکم کیا اس کو سوار ہو جانے کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے، اور آپ نے اسے سواری پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ پیدل نذر کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت کے نام پر ایسی تکلیف اپنے اوپر ڈالنا درست نہیں جو انسان کو مشقت میں ڈال دے، خاص طور پر جب وہ کمزور ہو۔ حدیث میں اصل توجہ نذر کے لفظ پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ اللہ بندے کی ایسی تکلیف کا محتاج نہیں۔ نیکی میں آسانی، طاقت کے مطابق عمل، اور جسم کی حالت کا خیال رکھنا بھی دین کی سمجھ کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ بندے کی خود دی ہوئی تکلیف کا محتاج نہیں۔
- کمزوری کی حالت میں سواری اختیار کرنا درست ہے۔
- نذر ایسی نہ ہو جو انسان کو بے جا مشقت میں ڈال دے۔
