صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۸ - نذر میں آسانی کا حکم
نذر میں آسانی: اللہ تمہاری مشقت کا محتاج نہیں
صحیح مسلم : ۴۲۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۸
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ هَذَا ؟ ، قَالَ ابْنَاهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ " ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ ، وَابْنِ حُجْرٍ ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا جو اپنے دونوں بیٹوں کے بیچ میں ٹیکا دے کر چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کیا ہوا ہے۔“ اس کے بیٹوں نے کہا: یا رسول اللہ! اس پر نذر ہے (پیدل حج پر جانے کی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جا اے بوڑھے! کیونکہ اللہ تعالیٰ محتاج نہیں ہے تیرا اور تیری نذر کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۸ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی ایک بوڑھے شخص کا واقعہ ہے جو اپنے بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تو اس کے بیٹوں نے بتایا کہ اس پر نذر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اے بوڑھے! سوار ہو جاؤ، کیونکہ اللہ تمہارا اور تمہاری نذر کا محتاج نہیں۔ نذر کی حدیث میں یہ الفاظ بہت سمجھانے والے ہیں۔ عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی اپنے جسم کو ایسی حالت میں ڈال دے کہ چلنا بھی مشکل ہو جائے۔ اگر نذر کی وجہ سے انسان کمزور ہو رہا ہے اور دوسروں کے سہارے چل رہا ہے تو اس میں آسانی دی گئی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اللہ کی بندگی طاقت کے مطابق ہے۔ نذر کو مشقت، دکھاوے یا اپنی جان پر سختی بنانے کے بجائے سمجھداری کے ساتھ دیکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ بندے کی نذر کا محتاج نہیں۔
- کمزور شخص کو بے جا مشقت میں نہیں ڈالا گیا۔
- دین میں طاقت کے مطابق عمل کا پہلو موجود ہے۔
