صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۹ - پیدل نذر کا شرعی فہم
پیدل چلنے کی نذر: جب مشقت بڑھ جائے تو آسانی
صحیح مسلم : ۴۲۴۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۹
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۹ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ایک شخص نے پیدل چلنے کی نذر مانی تھی، مگر اس کی حالت ایسی تھی کہ وہ بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نذر کو سمجھتے وقت انسان کی طاقت اور حالت کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ پیدل نذر کی حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ آدمی اپنے آپ کو کمزور کر کے عبادت کرے، بلکہ اللہ کی بندگی میں اعتدال رہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کی مشقت کا محتاج نہیں۔ جو نیکی کی جائے وہ اللہ کے لیے ہو، مگر اپنے جسم کو بے جا تکلیف دے کر نہیں۔ اس روایت سے عام آدمی کے لیے بھی سبق ہے کہ دین کے کام میں آسانی اور طاقت کے مطابق عمل کو اہم سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے حکم کی تائید کرتی ہے۔
- نذر میں انسان کی طاقت کو دیکھا جاتا ہے۔
- بے جا جسمانی مشقت کو عبادت نہ بنایا جائے۔
