صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۰ - بیت اللہ تک پیدل نذر

بیت اللہ تک پیدل نذر: پیدل بھی اور سوار بھی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۰

وحَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ حَافِيَةً ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَيْتُهُ ، فَقَالَ : لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ " ،

عقبہ بن عامر روایت:

میری بہن نے نذر کی کہ بیت اللہ تک ننگے پاؤں جائے گی۔ تو حکم کیا مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کا۔ میں نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کی نذر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ ان کی بہن نے نذر مانی تھی کہ بیت اللہ تک ننگے پاؤں پیدل جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔ اس حدیث سے نذر کے باب میں ایک آسان اور متوازن بات سمجھ آتی ہے۔ اگر کسی نے پیدل چلنے جیسی نذر مانی ہو تو معاملہ صرف سختی کا نہیں، بلکہ طاقت اور سہولت کا بھی ہے۔ پیدل نذر کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل طور پر سخت مشقت پر اصرار نہیں کیا، بلکہ پیدل چلنے اور سواری دونوں کا ذکر فرمایا۔ اس سے بندے کو یہ سبق ملتا ہے کہ دین میں نیکی کو تکلیف کا نام نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں ضرورت ہو وہاں آسانی اختیار کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پیدل نذر میں سواری کی گنجائش بیان ہوئی۔
  • مسئلہ پیش آئے تو علم والے سے پوچھنا چاہیے۔
  • نیکی میں طاقت اور آسانی دونوں کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں