صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۱ - بیت اللہ کی نذر میں آسانی

بیت اللہ تک پیدل نذر کا حکم: چلنا بھی، سوار ہونا بھی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۱

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ : أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : نَذَرَتْ أُخْتِي ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُفَضَّلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ حَافِيَةً ، وَزَادَ وَكَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ ،

‏‏‏‏ اوپر والی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۱ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلے واقعے ہی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے بیت اللہ تک پیدل جانے کی نذر مانی تھی، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو۔ اس روایت میں ننگے پاؤں کا لفظ نہیں آیا، مگر اصل مسئلہ وہی ہے کہ نذر کو انسان کی طاقت کے ساتھ دیکھا جائے۔ پیدل نذر کی حدیث عام لوگوں کے لیے یہ بات آسان کر دیتی ہے کہ دین میں سختی کو خود مقصد نہیں بنایا گیا۔ جب سفر لمبا ہو یا جسم پر مشقت آ جائے تو سواری کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ حدیث کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی سیکھا کہ نذر یا منت کے مسئلے میں اپنی رائے پر اصرار کرنے کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو معیار بنایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پیدل نذر میں سواری کی اجازت بیان ہوئی۔
  • حدیث میں مسئلہ پوچھنے کا اچھا طریقہ ملتا ہے۔
  • نذر کو طاقت اور آسانی کے ساتھ سمجھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں