صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۳ - عرینیوں کی سزا
عرینیوں کی حدیث: سخت جرم کے بعد سزا کا ذکر
صحیح بخاری : ۶۸۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَطَعَ الْعُرَنِيِّينَ ، وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے (ہاتھ پاؤں) کٹوا دئیے لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عرینیوں کا واقعہ اور سزا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عرینیوں کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے، لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر یہ اسی معروف واقعے سے جڑی ہوئی ہے جس میں عکل یا عرینہ کے لوگوں کا ذکر آتا ہے۔ یہاں متن میں صرف سزا اور داغ نہ لگوانے کا ذکر ہے۔ اس لیے وضاحت میں اسی حد تک رہنا ضروری ہے۔ اس حدیث کو عرینیوں کی حدیث، سخت جرم کی سزا حدیث اور حدود کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ اسے عام چوری یا معمولی جرم کے حکم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں عرینیوں پر سزا کا ذکر ہے۔
- حدیث میں داغ نہ لگوانے کی بات خاص طور پر آئی ہے۔
- یہ مختصر روایت ہے، اس لیے تفصیل متن سے باہر نہیں بڑھانی چاہیے۔
- واقعہ کو عام چوری کے حکم کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔
