صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۵ - عکل یا عرینہ کا واقعہ
عکل یا عرینہ کا واقعہ: چوری، قتل اور ایمان کے بعد کفر
صحیح بخاری : ۶۸۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَهْطًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ عُرَيْنَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ مِنْ عُكْلٍ ، قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ، فَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا ، فَشَرِبُوا حَتَّى إِذَا بَرِئُوا ، قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً ، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ ، فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ ، فَأُلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ " قَالَ أَبُو قِلَابَةَ : هَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا ، وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ، وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ .
انس بن مالک روایت:
قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عکل یا عرینہ کے لوگوں کا سنگین واقعہ ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ چند لوگ مدینہ آئے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کیا اور انہیں اونٹوں کے پاس جا کر دودھ اور پیشاب پینے کو فرمایا۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ لے گئے۔ خبر نبی صلى الله عليه وسلم تک پہنچی تو ان کے پیچھے سوار بھیجے گئے اور وہ پکڑ کر لائے گئے۔ پھر انہیں سخت سزا دی گئی۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی، قتل کیا، ایمان کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔ اس لیے حدیث کا دائرہ بہت خاص اور سنگین جرم سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں قتل، چوری اور ایمان کے بعد کفر کا ذکر ہے۔
- لوگوں نے صحت پانے کے بعد جرم کیا۔
- ابوقلابہ نے واقعے کی نوعیت واضح الفاظ میں بیان کی۔
- اس حدیث کو عام چوری کے حکم سے الگ سمجھنا چاہیے۔
