صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۶ - سات خوش نصیب لوگ عرش کے سائے میں

سات آدمی عرش کے سائے میں: تقویٰ، عبادت اور چھپا صدقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : إِمَامٌ عَادِلٌ ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا ، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۶ کا خلاصہ

یہ حدیث سات خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ اس کا مرکزی پیغام تقویٰ اور اللہ کے لیے خالص عمل ہے۔ عادل حاکم ہو یا وہ نوجوان جو عبادت میں بڑھا، وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کر کے رو پڑا ہو یا وہ آدمی جس کا دل مسجد سے لگا رہتا ہو؛ سب میں ایک بات مشترک ہے: اللہ کا خوف اور اخلاص۔ اسی طرح اللہ کے لیے محبت، گناہ کی دعوت پر “میں اللہ سے ڈرتا ہوں” کہنا، اور ایسا خفیہ صدقہ دینا جس کا چرچا نہ ہو، اس حدیث کی بڑی تعلیمات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عدل کرنے والا حاکم اللہ کے ہاں خاص مقام رکھتا ہے۔
  • جوانی میں عبادت اور مسجد سے تعلق قابل قدر عمل ہے۔
  • اللہ کے خوف سے گناہ چھوڑنا ایمان کی مضبوط علامت ہے۔
  • صدقہ چھپا کر دینا اخلاص کو بڑھاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں