صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۷ - زبان اور شرمگاہ کی حفاظت پر جنت کی ضمانت
زبان کی حفاظت اور پاکدامنی: جنت کی ضمانت والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی (شرمگاہ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (یعنی زبان) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بہت مختصر مگر واضح بات فرمائی: جو شخص اپنے جبڑوں کے درمیان والی چیز، یعنی زبان، اور اپنے پاؤں کے درمیان والی چیز، یعنی شرمگاہ، کی ضمانت دے دے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے لیے جنت کی ضمانت بیان فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زبان کی حفاظت اور پاکدامنی دونوں مسلمان کی زندگی میں بہت اہم ہیں۔ زبان سے جھوٹ، غلط بات، بدکلامی یا ناحق بات نکل سکتی ہے، اور شرمگاہ کی حفاظت انسان کو زنا اور بے حیائی سے بچاتی ہے۔ حدیث کا پیغام سیدھا ہے: اپنی بات اور اپنی خواہش پر قابو رکھنا جنت کے راستے سے جڑا ہوا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زبان کو قابو میں رکھنا بڑی دینی ذمہ داری ہے۔
- شرمگاہ کی حفاظت پاکیزہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔
- بات کرنے سے پہلے سوچنا انسان کو بہت سی غلطیوں سے بچاتا ہے۔
- خواہشات پر قابو رکھنا جنت کی امید کا سبب بنتا ہے۔
