صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۹ - زنا، چوری، شراب اور قتل ایمان کو کمزور کرتے ہیں

کبیرہ گناہ اور ایمان: زنا، چوری، شراب اور قتل کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۰۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ عِكْرِمَةُ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ ؟ قَالَ : هَكَذَا : وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا ، فَإِنْ تَابَ ، عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا : وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ ان نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۸۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چار بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا: زنا، چوری، شراب پینا اور ناحق قتل۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ بندہ جب یہ کام کرتا ہے تو اس وقت مومن نہیں رہتا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب میں ایمان کے نکلنے اور توبہ کے بعد لوٹ آنے کو انگلیوں کے اشارے سے سمجھایا گیا۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کبیرہ گناہ ایمان کے ساتھ بہت خطرناک معاملہ رکھتے ہیں۔ لیکن حدیث میں توبہ کا دروازہ بھی نظر آتا ہے: اگر بندہ توبہ کر لے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے۔ اس لیے گناہ کو معمولی نہ سمجھنا چاہیے اور توبہ میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کبیرہ گناہ ایمان کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔
  • زنا، چوری، شراب اور ناحق قتل کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • توبہ کے بعد ایمان کی واپسی کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
  • گناہ کے بعد سچی توبہ کی طرف فوراً پلٹنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں