صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۰ - گناہ کے بعد توبہ کا دروازہ کھلا ہے
زنا، چوری، شراب اور توبہ: ایمان کی حفاظت والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۸۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۱۰
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو مومن نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو مومن نہیں رہتا، اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو مومن نہیں رہتا۔ یہ الفاظ گناہ کی سنگینی بتاتے ہیں۔ لیکن اسی حدیث کے آخر میں ایک بڑی امید بھی ہے: توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو گناہ کو ہلکا نہیں لینا چاہیے، مگر ناامید بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جب غلطی ہو جائے تو رک کر اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔ حدیث کا مرکزی پیغام ایمان کی حفاظت اور سچی توبہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زنا، چوری اور شراب ایمان کے لیے سخت نقصان دہ ہیں۔
- گناہ کے وقت انسان کی دینی حالت کمزور ہو جاتی ہے۔
- حدیث میں توبہ کا دروازہ کھلا رہنے کی بات آئی ہے۔
- گناہ کے بعد مایوسی نہیں، بلکہ توبہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔
