صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۷ - کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ
زنا کی حد کی حدیث: کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ
صحیح بخاری : ۶۸۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۲۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ مِنْ فِي الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، قَالَا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، فَقَامَ خَصْمُهُ ، وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ ، فَقَالَ : اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأْذَنْ لِي ، قَالَ : " قُلْ ، قَالَ : إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا ، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ ، وَعَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ ، الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا ، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا " فَغَدَا عَلَيْهَا ، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ : لَمْ يَقُلْ : فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ ، فَقَالَ : الشَّكُّ فِيهَا مِنْ الزُّهْرِيِّ ، فَرُبَّمَا قُلْتُهَا ، وَرُبَّمَا سَكَتُّ .
ابوہریرہ اور زید بن خالد روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کریں۔ اس پر اس کا مقابل بھی کھڑا ہو گیا اور وہ پہلے سے زیادہ سمجھدار تھا، پھر اس نے کہا کہ واقعی آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے ہی فیصلہ کیجئے اور مجھے بھی گفتگو کی اجازت دیجئیے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو، اس شخص نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدوری پر کام کرتا تھا پھر اس نے اس کی عورت سے زنا کر لیا، میں نے اس کے فدیہ میں اسے سو بکری اور ایک خادم دیا، پھر میں نے بعض علم والوں سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدر ہونے کی حد واجب ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس ہوں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اسے جلا وطن کیا جائے گا اور اے انیس! صبح کو اس کی عورت کے پاس جانا اگر وہ (زنا کا) اقرار کر لے تو اسے رجم کر دو۔ چنانچہ وہ صبح کو اس کے پاس گئے اور اس نے اقرار کر لیا اور انہوں نے رجم کر دیا۔علی بن عبداللہ مدینی کہتے ہیں میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا جس شخص کا بیٹا تھا اس نے یوں نہیں کہا کہ ان عالموں نے مجھ سے بیان کیا کہ تیرے بیٹے پر رجم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو اس میں شک ہے کہ زہری سے میں نے سنا ہے یا نہیں، اس لیے میں نے اس کو کبھی بیان کیا کبھی نہیں بیان کیا بلکہ سکوت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ فیصلہ خواہ مشکل ہو، وہ کتاب اللہ کے مطابق ہونا چاہیے۔ دو آدمی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ دوسرے نے تفصیل بیان کی کہ اس کا بیٹا ایک شخص کے ہاں مزدور تھا اور اس نے اس کی عورت سے زنا کیا۔ اس نے سو بکریاں اور ایک خادم فدیہ میں دیا، مگر اہل علم سے پوچھنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال شہر بدری ہے، جبکہ شادی شدہ عورت کے لیے رجم کا حکم ہے اگر وہ اقرار کرے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے بکریاں اور خادم واپس کرائے، لڑکے کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کا فیصلہ فرمایا، اور عورت کے اقرار پر رجم کا حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شرعی معاملے میں فدیہ دے کر حد کو بدلنا درست نہیں بتایا گیا۔
- فیصلہ جذبات یا دباؤ کے بجائے کتاب اللہ کے مطابق ہوا۔
- غیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کا ذکر آیا۔
- عورت کے معاملے میں اقرار کو فیصلہ کن شرط کے طور پر ذکر کیا گیا۔
