صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۸ - تعزیر میں دس کوڑوں کی حد

تعزیر کی حد: دس کوڑوں سے زیادہ سزا کب نہیں؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ ، إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حدود اللہ میں کسی مقررہ حد کے سوا کسی اور سزا میں دس کوڑے سے زیادہ بطور تعزیر و سزا نہ مارے جائیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع تعزیر کی حد ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ اللہ کی مقرر کردہ حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے۔ اس سے تعزیر کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ سزا بھی بے قابو غصے یا ذاتی سختی کے بجائے مقرر اصول کے ساتھ ہو۔ یہاں حد اور تعزیر میں فرق بھی سامنے آتا ہے: حدود اللہ وہ سزائیں ہیں جو شریعت نے خاص جرم کے لیے مقرر کی ہیں، جبکہ دوسری تادیبی سزا میں حد سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔ اس روایت میں انصاف، ضبط اور سزا کے دائرے کا سبق ہے۔ کوئی حاکم، استاد یا ذمہ دار شخص سزا دیتے وقت اپنی مرضی کو معیار نہ بنائے، بلکہ شرعی حد کا لحاظ رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سزا دیتے وقت حد سے بڑھنا درست نہیں۔
  • تعزیر میں دس کوڑوں سے زیادہ کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔
  • اللہ کی مقرر کردہ حدود کا معاملہ عام تادیبی سزا سے الگ ہے۔
  • انصاف میں غصے کے بجائے مقرر اصول کو دیکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں