صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۹ - تادیبی سزا کا شرعی دائرہ
تعزیر کی حدیث: سزا میں حد سے نہ بڑھنے کا حکم
صحیح بخاری : ۶۸۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۴۹
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عُقُوبَةَ فَوْقَ عَشْرِ ضَرَبَاتٍ ، إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .
عبدالرحمٰن بن جابر روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا مجرم کو دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دی جائے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۸۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تعزیر کی حد ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ اللہ کی مقرر کردہ حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارا جائے۔ اس سے تعزیر کی حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ سزا بھی بے قابو غصے یا ذاتی سختی کے بجائے مقرر اصول کے ساتھ ہو۔ یہاں حد اور تعزیر میں فرق بھی سامنے آتا ہے: حدود اللہ وہ سزائیں ہیں جو شریعت نے خاص جرم کے لیے مقرر کی ہیں، جبکہ دوسری تادیبی سزا میں حد سے تجاوز نہیں کیا جائے گا۔ اس روایت میں انصاف، ضبط اور سزا کے دائرے کا سبق ہے۔ کوئی حاکم، استاد یا ذمہ دار شخص سزا دیتے وقت اپنی مرضی کو معیار نہ بنائے، بلکہ شرعی حد کا لحاظ رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سزا دیتے وقت حد سے بڑھنا درست نہیں۔
- تعزیر میں دس کوڑوں سے زیادہ کی ممانعت بیان ہوئی ہے۔
- اللہ کی مقرر کردہ حدود کا معاملہ عام تادیبی سزا سے الگ ہے۔
- انصاف میں غصے کے بجائے مقرر اصول کو دیکھا جائے۔
