صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۳ - ذاتی بدلہ نہیں، اللہ کے لیے عدل
نبی صلى الله عليه وسلم کا عفو: ذاتی بدلہ نہیں، اللہ کی حد کے لیے عدل
صحیح بخاری : ۶۸۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۳
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ ، حَتَّى يُنْتَهَكَ مِنْ حُرُمَاتِ اللَّهِ ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی معاملہ میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ہاں جب اللہ کی قائم کی ہوئی حد کو توڑا جاتا تو آپ پھر بدلہ لیتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۳ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے عفو اور عدل کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ذاتی معاملے میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ لیکن جب اللہ کی حرمت کو توڑا جاتا، تو آپ صلى الله عليه وسلم اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی غصہ اور شرعی حق ایک جیسے نہیں۔ انسان اپنی ذات پر ہونے والی تکلیف کو معاف کر سکتا ہے، مگر اللہ کی حد اور دین کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ نبی صلى الله عليه وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ ذاتی معاملے میں نرمی، برداشت اور عفو تھا، جبکہ اللہ کے حکم کی بے حرمتی پر عدل قائم کیا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذاتی معاملے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے بدلہ لینے کو اپنا طریقہ نہیں بنایا۔
- اللہ کی حرمت پامال ہو تو معاملہ ذاتی نہیں رہتا۔
- عفو اور عدل دونوں کا اپنا مقام ہے۔
- دینی حکم کو ذاتی پسند یا ناپسند پر نہیں چھوڑا جاتا۔
