صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۲ - قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا
خرید و فروخت کی حدیث: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنے کا حکم
صحیح بخاری : ۶۸۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۸۵۲
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّهُمْ كَانُوا يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا اشْتَرَوْا طَعَامًا جِزَافًا ، أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس پر مار پڑتی کہ جب غلہ کے ڈھیر یوں ہی خریدیں، بن ناپے اور تولے اس کو اسی جگہ دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالیں ہاں وہ غلہ اٹھا کر اپنے ٹھکانے لے جائیں پھر بیچیں تو کچھ سزا نہ ہوتی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۸۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع خرید و فروخت میں قبضہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں لوگوں کو اس بات پر مار پڑتی تھی کہ وہ غلہ ڈھیر کے حساب سے خریدتے، پھر بن ناپے تولے اسی جگہ آگے بیچ دیتے۔ انہیں کہا جاتا کہ پہلے وہ غلہ اپنے ٹھکانے لے جائیں، پھر بیچیں۔ اس خرید و فروخت کی حدیث کا پیغام یہ ہے کہ لین دین میں جلد بازی اور مبہم معاملہ درست نہیں۔ مال خریدنے کے بعد اس پر عملی قبضہ اور اسے اپنی جگہ منتقل کرنا اہم ہے، تاکہ معاملہ صاف رہے۔ حدیث میں خاص طور پر غلے کے ڈھیر اور اسی جگہ دوبارہ بیچنے کا ذکر ہے، اس لیے تشریح بھی اسی دائرے میں رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بن ناپے تولے غلے کو اسی جگہ آگے بیچنے سے روکا گیا۔
- خریدی ہوئی چیز کو اپنے ٹھکانے لے جانا معاملے کو صاف بناتا ہے۔
- بازار کے لین دین میں بے احتیاطی پر تادیب ہو سکتی ہے۔
- حدیث خاص طور پر غلے کے ڈھیر کی خرید و فروخت سے متعلق ہے۔
