صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۸ - لا الہ الا اللہ اور حسن ظن
لا الہ الا اللہ کی حدیث: بدگمانی سے بچنے کا سبق
صحیح بخاری : ۶۹۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۳۸
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : " مِنَّا ذَلِكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا تَقُولُوهُ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ، قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَإِنَّهُ لَا يُوَافَى عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .
عتبان بن مالک روایت:
صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے پھر ایک صاحب نے پوچھا کہ مالک بن الدخشن کہاں ہیں؟ ہمارے قبیلہ کے ایک شخص نے جواب دیا کہ وہ منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم ایسا نہیں سمجھتے کہ وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کا مقصد اس سے اللہ کی رضا ہے۔ اس صحابی نے کہا کہ ہاں یہ تو ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جو بندہ بھی قیامت کے دن اس کلمہ کو لے کر آئے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے مالک بن الدخشن کے بارے میں کہا کہ وہ منافق ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس بات کو فوراً قبول نہیں کیا، بلکہ فرمایا: کیا وہ «لا إله إلا الله» نہیں کہتا اور اس سے اللہ کی رضا چاہتا ہے؟ جب جواب ہاں میں ملا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ قیامت کے دن یہ کلمہ لے کر آئے گا، اللہ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ کسی مسلمان کے بارے میں سخت حکم لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے، خاص طور پر جب وہ کلمہ کہتا ہو اور اس کا مقصد اللہ کی رضا بیان کیا گیا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کلمہ پڑھنے والے کے بارے میں بدگمانی سے بچنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کسی کے باطن پر جلدی حکم لگانے کو پسند نہیں فرمایا۔
- لا الہ الا اللہ ایمان کی بنیاد ہے، جب بندہ اسے اللہ کی رضا کے لیے کہے۔
