صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۴ - طاعون میں سفر کا اصول
طاعون کی حدیث: وبا کے وقت سفر اور ٹھہرنے کا حکم
صحیح بخاری : ۶۹۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يُحَدِّثُ سَعْدًا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْوَجَعَ ، فَقَالَ : " رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ ثُمَّ بَقِيَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى ، فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ ، فَلَا يُقْدِمَنَّ عَلَيْهِ ، وَمَنْ كَانَ بِأَرْضٍ وَقَعَ بِهَا ، فَلَا يَخْرُجْ فِرَارًا مِنْهُ " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا اس کے بعد اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور وہ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی واپس آ جاتا ہے۔ پس جو شخص کسی سر زمین پر اس کے پھیلنے کے متعلق سنے تو وہاں نہ جائے لیکن اگر کوئی کسی جگہ ہو اور وہاں یہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے طاعون کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ یہ ایک عذاب تھا جس کے ذریعے بعض امتوں کو عذاب دیا گیا، پھر اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا؛ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی واپس آتا ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے واضح ہدایت دی کہ جو شخص کسی سرزمین میں اس کے پھیلنے کی خبر سنے، وہ وہاں نہ جائے، اور جو شخص وہاں پہلے سے موجود ہو، وہ وہاں سے بھاگ کر نہ نکلے۔ طاعون کی حدیث بیماری کے وقت سنجیدگی، احتیاط اور ذمہ داری کا سبق دیتی ہے۔ اس میں خوف پھیلانے کی بات نہیں، بلکہ ایک صاف عملی اصول ہے: خطرے والی جگہ میں داخل نہ ہو، اور اگر اندر ہو تو بھاگنے کے انداز میں باہر نہ نکلے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طاعون یا وبا کی خبر سن کر متاثرہ علاقے میں جانے سے روکا گیا ہے۔
- وبا والی جگہ میں موجود شخص کو بھاگ کر نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
- بیماری کے معاملے میں دینی رہنمائی احتیاط اور ذمہ داری سکھاتی ہے۔
