صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۵ - دیا ہوا تحفہ واپس لینے کی برائی
ہبہ واپس لینے کی حدیث: دیا ہوا تحفہ واپس نہ لو
صحیح بخاری : ۶۹۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۷۵
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ، لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود چاٹ جاتا ہے ‘ ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہبہ واپس لینے کے عمل کے لیے نہایت سخت مثال بیان فرمائی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود چاٹ جاتا ہے، اور ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔ ہبہ کا مطلب کسی کو اپنی چیز بطور عطیہ دینا ہے۔ جب انسان کسی کو خوشی سے کوئی چیز دے، پھر بعد میں اسے واپس لینے کی کوشش کرے، تو یہ اخلاقی طور پر بہت ناگوار عمل ہے۔ ہبہ واپس لینے کی حدیث ہمیں سخاوت، وعدے کی پاسداری اور صاف دل سے دینے کا سبق دیتی ہے۔ اگر کچھ دینا ہو تو سوچ سمجھ کر دیا جائے، اور دے دینے کے بعد دل کو بار بار اس چیز کے ساتھ نہ باندھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دیا ہوا تحفہ واپس لینا ناپسندیدہ اور بری مثال والا عمل ہے۔
- ہبہ دینے سے پہلے سوچ سمجھ لینا چاہیے۔
- مسلمان کو دینے کے بعد احسان جتانے یا واپس لینے سے بچنا چاہیے۔
