صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۰ - ایک شخص کا خواب بیان کرنا
خواب بیان کرنے کی روایت اور اس کے طرق
صحیح بخاری : ۷۰۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۰۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُرِيتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ،عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ شُعَيْبٌ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ مَعْمَرٌ لَا يُسْنِدُهُ حَتَّى كَانَ بَعْدُ .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے اور انہوں نے واقعہ بیان کیا اور اس روایت کی متابعت سلیمان بن کثیر، زہری کے بھتیجے اور سفیان بن حسین نے زہری سے کی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، اور زبیدی نے زہری سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور شعیب اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، اور معمر نے اسے متصلاً نہیں بیان کیا لیکن بعد میں متصلاً بیان کرنے لگے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۰ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: خواب کی روایت۔ اس حدیث کے فراہم کردہ متن میں اصل واقعہ مکمل تفصیل سے نہیں آیا، بلکہ اتنا بیان ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ میں نے رات کو خواب دیکھا ہے، پھر روایت کا سلسلہ اور مختلف راویوں کی متابعت ذکر ہوئی۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت میں خواب کی مکمل تعبیر یا واقعے کی تفصیل شامل نہیں کی جا سکتی، کیونکہ وہ اس متن میں موجود نہیں۔ یہاں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ خواب کا ذکر نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے کیا گیا اور محدثین نے اس روایت کے مختلف طرق کو نقل کیا۔ خواب بیان کرنا، خواب کی حدیث، ابن عباس کی روایت، اور روایت کی متابعت جیسے الفاظ اس متن سے قریب ہیں۔ درست انداز یہی ہے کہ جو بات متن میں آئی ہے اسے صاف کہا جائے، اور جو نہیں آئی اسے نہ بڑھایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس متن میں ایک شخص کے خواب کا ذکر نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے آنے کا بیان ہے۔
- روایت میں مختلف راویوں کی متابعت کا ذکر آیا ہے۔
- فراہم کردہ متن میں خواب کی مکمل تفصیل موجود نہیں۔
- حدیث کی شرح میں متن سے باہر بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔
