صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۱ - ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر نبی صلى الله عليه وسلم کا آرام
ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر نبی صلى الله عليه وسلم کا آرام
صحیح بخاری : ۷۰۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۰۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا ، فَأَطْعَمَتْهُ ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۰۱ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: ام حرام۔ اس حدیث کے اس حصے میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، اور وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ صلى الله عليه وسلم ان کے گھر گئے، انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا، پھر آپ صلى الله عليه وسلم کا سر دیکھنے لگیں۔ اسی دوران نبی کریم صلى الله عليه وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم مسکرا رہے تھے۔ اس روایت کے اسی متن میں مسکرانے کی وجہ بیان نہیں ہوئی، اس لیے یہاں صرف اتنی ہی بات بیان کی جا رہی ہے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا، نبی صلى الله عليه وسلم کا خواب، نبی صلى الله عليه وسلم کا مسکرانا، اور گھر میں آرام جیسے الفاظ اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔ یہ روایت صحابہ کے گھر نبی صلى الله عليه وسلم کی آمد اور ایک خاص واقعے کی ابتدا بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔
- انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے کھانا پیش کیا۔
- اس حصے میں نبی صلى الله عليه وسلم کے آرام کرنے اور مسکرا کر بیدار ہونے کا ذکر ہے۔
- مسکرانے کی وجہ اس فراہم کردہ متن میں بیان نہیں ہوئی۔
