صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۴ - اسلام کا ستون اور عروۃ الوثقیٰ
اسلام کا باغ اور عروۃ الوثقیٰ: دین پر مضبوط رہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۰۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۱۴
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ وَوَسَطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ عُرْوَةٌ ، فَقِيلَ لِي ، ارْقَهْ ، قُلْتُ ، لَا أَسْتَطِيعُ ، فَأَتَانِي وَصِيفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي ، فَرَقِيتُ ، فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا مُسْتَمْسِكٌ بِهَا ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تِلْكَ الرَّوْضَةُ رَوْضَةُ الْإِسْلَامِ ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى ، لَا تَزَالُ مُسْتَمْسِكًا بِالْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ " .
عبداللہ بن سلام روایت:
میں نے (خواب) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اپنا خواب بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک باغ میں ہیں، باغ کے درمیان ایک ستون ہے، اور ستون کے اوپر ایک حلقہ ہے۔ انہیں کہا گیا کہ اس پر چڑھو۔ انہوں نے کہا کہ میں طاقت نہیں رکھتا۔ پھر ایک خادم آیا، اس نے ان کے کپڑے اوپر کیے، وہ چڑھے اور حلقہ پکڑ لیا۔ جب انہوں نے یہ خواب نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو سنایا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا، ستون اسلام کا ستون تھا، اور حلقہ عروۃ الوثقیٰ تھا۔ پھر فرمایا کہ تم موت تک اسلام کو مضبوطی سے تھامے رہو گے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام اسلام پر استقامت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس خواب میں باغ کو اسلام کا باغ بتایا گیا۔
- ستون کو اسلام کا ستون اور حلقے کو عروۃ الوثقیٰ کہا گیا۔
- عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے لیے موت تک اسلام پر مضبوط رہنے کی خبر دی گئی۔
