صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۰ - عروۃ الوثقیٰ کو تھامنا
عروۃ الوثقیٰ کا خواب: دین پر مضبوطی سے قائم رہنا
صحیح بخاری : ۷۰۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۱۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ " كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، فَقَالُوا : هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُمْ قَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ ، إِنَّمَا رَأَيْتُ كَأَنَّمَا عَمُودٌ وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ ، وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ ، فَقِيلَ : ارْقَهْ ، فَرَقِيتُهُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى " .
قیس بن عباد روایت:
میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے۔میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( «عروة») لگا ہوا تھا اور نیچے «منصف» تھا۔ «منصف» سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ «العروة الوثقى» کو پکڑے ہوئے ہوں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے خواب کا ذکر ہے۔ لوگ ان کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ جب انہیں یہ بات بتائی گئی تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس کا انہیں علم نہ ہو۔ پھر انہوں نے اپنا خواب بیان کیا کہ ایک ہرے بھرے باغ میں ایک ستون تھا، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا، اور نیچے ایک خادم تھا۔ انہیں کہا گیا کہ اوپر چڑھو۔ وہ چڑھے اور حلقہ پکڑ لیا۔ جب اس خواب کا ذکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کیا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا انتقال اس حال میں ہو گا کہ وہ عروۃ الوثقیٰ کو پکڑے ہوئے ہوں گے۔ اس حدیث کا اصل موضوع علم کے بغیر قطعی بات کہنے سے بچنا اور دین پر مضبوطی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے آخری انجام کے بارے میں علم کے بغیر قطعی بات نہیں کہنی چاہیے۔
- عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے خواب میں عروۃ الوثقیٰ کو مضبوطی کی علامت بتایا گیا۔
- نیک خواب کی تعبیر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے معلوم کی گئی، اپنی طرف سے فیصلہ نہیں کیا گیا۔
